حضرت علی علیہ السلام بڑے مشتاقانہ انداز میں گھر کے اندر داخل ہوئے اوراپنی” مستجاب تمنا“ کوآغوش میں بھر لیا بچے کا چہرہ چاند کی طرح دمک رہا تھا اللہ اکبر کی مترنم آواز کان میں پہنچی تو اسد اللہ کے پسر نے شیر حق کی گود میں انگڑائياں لینی شروع کردی حضرت علی علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے ام البنین کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں اس بچے کا نام عباس قرار دیتا ہوں ۔ اسی وقت قریب کھڑے امام حسین علیہ السلام آگے بڑھے اور باپ سے لے کر اپنے قوت بازو کواپنی باہوں میں سمیٹ لیا ، روایت میں ہے کہ ام البنین کے لال نےابھی تک آنکھیں نہیں کھولی تھیں جیسے ہی اپنے آقا حسین علیہ السلام کی خوشبو محسوس کی آنکھیں کھول دیں اور فرط مسرت و شادمانی سے فاتح کربلا کی آنکھیں چھلک آئيں ۔......./169
22 جون 2012 - 19:30
News ID: 324268
چار شعبان المعظم کی وہ شام کس قدر حسین و دلنواز شام تھی جب حضرت علی ابن ابی طالب کےکاشانۂ نور سے قمر بنی ہاشم کے طلوع کی خبر پھیلتے ہی مدینۂ منورہ کے بام و در جگمگا اٹھے.